کتاب: نعت گوئی اور اس کے آداب - صفحہ 267
اب رہا معاملہ توحید کا تو اس کی شکل یہ تھی کہ مشرکین اللہ کو اس کی ذات ، صفات اور افعال میں ایک مانتے تھے ، وہ کہتے تھے:
اسی کے ہاتھ میں آسمان و زمین او ر ان کے بیچ کی ساری چیزوں کی ملکیت ہے اور صرف وہی رازق ہے جو انسان ، حیوان ، چوپائے ، درندے ، پرندے غرض ہر زندہ چیز کو روزی دیتا ہے اور صرف وہی مدبر ہے جو آسمان اور زمین تک کا سارا نظام چلاتا ہے اور چھوٹی بڑی ہر چیز یہاں تک کہ چیونٹی اور ذرے تک کے معاملات کا انتظام کرتا ہے اور صرف وہی آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کا رب ہے اور وہی عرشِ عظیم کا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے۔ اس نے سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت ،چوپائے، جن، انسان اور فرشتے سب کو اپنے تابع فرمان کر رکھا ہے اور سب کے سب اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، وہ جسے چاہے پناہ دے، کوئی پکڑ نہیں سکتا اور جسے چاہے پکڑ لے کوئی پناہ نہیں دے سکتا، وہی زندہ کرتا ہے، وہی مارتا ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو حکم چاہتا ہے، لگاتا ہے، کوئی اس کا حکم روک سکتا ہے نہ اس کا فیصلہ بدل سکتا ہے۔
یہ ساری باتیں مشرکین تسلیم کرتے تھے اور ان سب میں وہ اللہ کو اکیلا اور یکتا مانتے تھے، وہ اللہ کی ذات اور صفات اور افعال میں کسی کو شریک نہیں مانتے تھے، البتہ ان باتوں میں اللہ کو ایک ماننے کے بعد وہ کہتے تھے:
اللہ نے اپنے بعض مقرب اور مقبول بندوں کو اس دنیا کے بعض کاموں میں کچھ تصرف کرنے کا اختیار دے دیا ہے اور وہ اللہ کے دیے ہوئے اس اختیار کی بنا پر تصرف کرتے ہیں، مثلاً:اولاد دے دیتے ہیں، مصیبت دور کر دیتے ہیں، بیمار کو شفا دیتے ہیں اور بعض دیگر ضرورتیں پوری کرتے ہیں اور اللہ نے انھیں یہ اختیار اس لیے دیا ہے کہ وہ