کتاب: نعت گوئی اور اس کے آداب - صفحہ 218
آگئے شاہِ اُمم مٹ گئے رنج و الم ( نعت) وغیرہ …اسی طرح برصغیر میں پہلے پہل تو عمومی قوالیوں اور بعد ازاں فلمی قوالیوں کا رواج ہوا۔ ان قوالیوں میں ہندی الفاظ ، شرکیہ انداز اور مضامین عام تھے، مثلاًمشہور قوالی: تاجدار حرم ہو نگاہِ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے یاد رکھو اگر اٹھ گئی اک نظر جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے میں آگے چل کر شاعر کہتا ہے: کیا تم سے کہوں اے عرب کے کنور ! تم جانت ہو من کی ’’بَتْیَاں‘‘ تیری پیت میں سُدھ بُدھ سب ہی گئی کب تک یہ رہے گی بے خبری میں کنور (شہزادہ) ، بتیاں (باتیں) ، پیت (محبت) اورسُدھ بُدھ (ہوش) ہندی الفاظ ہیں، نیز ایک طرف شاعر کا دعویٰ یہ ہے کہ اے عرب کے تاجدار مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی دلی کیفیت بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے[1] دل کی باتیں تک جانتے ہیں۔ اور دوسری طرف شاعر اس بات پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شاکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مجھ جیسے سودائی کی جو حالت زار ہو گئی ہے اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہی نہیں۔ یہ بات ایک دوسرے کے بالکل برعکس اور نفس مضمون کا کھلا
[1] حالانکہ بفحوائے عبارت قرآنی: ’’ اور اللہ ہی دلوں کی باتیں جانتا ہے ۔‘‘ (اٰل عمرٰن 154:3) اور ’’اور جو خیالات دلوں میں گزرتے ہیں ہم انھیں بھی جانتے ہیں۔‘‘ (قٓ 16:50) اس لیے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کو جاننا صرف اللہ ہی کی صفت ہے جسے کسی دوسری ہستی سے منسوب کرنا شرک ہے ۔