کتاب: نعت گوئی اور اس کے آداب - صفحہ 193
تمھارے جلوۂ رخ میں جھلک ہے نورِ خالق کی
مِرے اس قول پر صادق حدیثِ مَنْ رَّأٰنِي ہے
(نظامی بدایونی)
کہہ رہا ہے آپ کو اپنی طرح کا جو بشر
حکمِ قرآں سے وہ کافر ہو گیا ہے بدشِیَم[1]
(تاج عرفانی)
یہ جو کچھ سامنے ارض و سما ہے
سب اس کی ذات سے پیدا ہوا ہے
(ضیاء الدین عبرت)
نہ فلک ، نہ چاند تارے ، نہ سحر نہ رات ہوتی
نہ تِرا جمال ہوتا نہ یہ کائنات ہوتی
(عنبر وارثی)
ہوں راز جلی یا کہ خفی تجھ پہ ہویدا
تو دیکھ رہا ہے عقب و پیش کے حالات
(مرزا عزیز)
[1] اس قسم کے انتہا پسندانہ اشعار، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’بشر‘‘ کہنے والوں کو ’’بدشیم‘‘ اور ’’کافر‘‘ کہا گیا ، بعض متشدد مفسرین کے ’’فتویٰ تکفیر‘‘ کے باعث کہے گئے ہیں۔ ایسے فتوے باز مفسرین و شعراء کے بارے میں کیا خوب کہا گیاہے:
ہر بات پہ دیتا ہے تو ’’تکفیر‘‘ کے فتوے
اسلام ترے باپ کی جاگیر نہیں ہے
(عظیم قریشی )