کتاب: متنازع مسائل کے قرآنی فیصلے - صفحہ 84
بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق کے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ لیکن انہوں نے آ کر یوں ہی رپورٹ دے دی کہ انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف فوج کشی کا ارادہ فرما لیا، تاہم پھر پتہ لگ گیا کہ یہ بات غلط تھی اور ولید رضی اللہ عنہ تو وہاں گئے ہی نہیں ۔ لیکن سند اور امر واقعہ دونوں اعتبار سے یہ روایت صحیح نہیں ہے۔اس لئے اسے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں کرنا صحیح نہیں ہے تاہم شان نزول کی بحث سے قطع نظر اس میں ایک نہایت ہی اہم اصول بیان فرمایا گیا ہے جس کی انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر نہایت اہمیت ہے ہرفرد اور ہر حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے پاس جوبھی خبریااطلاع آئے بالخصوص بدکردار، فاسق اور مفسد قسم کے لوگوں کی طرف سے، تو پہلے اس کی تحقیق کی جائے تاکہ غلط فہمی میں کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہو۔ سورۃ التحریم : یٰآیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (۱)۔ اے نبی ! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے حلال کر دیا ہے اسے