کتاب: متنازع مسائل کے قرآنی فیصلے - صفحہ 64
سورۃ مریم : قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلاَمٌ وَّکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا (۸) زکریا کہنے لگے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا ، میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں ٭ ٭ عَاقِرٌ اس عورت کو بھی کہتے ہیں جو بڑھاپے کی وجہ سے اولاد جننے کی صلاحیت سے محروم ہوچکی ہو اور اسکو بھی کہتے ہیں جو شروع سے ہی بانجھ ہو۔ یہاں یہ دوسرے معنی میں ہی ہے جو لکڑی سوکھ جائے،اسے عِتِیًّا کہتے ہیں مراد بڑھاپے کا آخری درجہ ہے جس میں ہڈیاں اکڑ جاتی ہیں ۔مطلب یہ ہے کہ میری بیوی تو جوانی سے ہی بانجھ ہے او رمیں بڑھاپے کے انتہائی آخری درجے پر پہنچ چکا ہوں ، اب اولاد کیسے ممکن ہے؟کہاجاتا ہے کہ زکریا علیہ السلام کی اہلیہ کا نام اشاع بنت فاقود بن میل ہے اور یہ حنہ (والدہ مریم) کی بہن ہیں لیکن زیادہ صحیح قول یہ لگتا ہے کہ اشاع بھی عمران کی دختر ہیں جو مریم کے والد تھے ۔یوں یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں حدیث صحیح سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔(فتح القدیر)