کتاب: متنازع مسائل کے قرآنی فیصلے - صفحہ 61
٭ مفسرین کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتیں پوچھی تھیں، روح کی حقیقت کیا ہے اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کون تھے؟ کہتے ہیں کہ یہی سوالات اس سورت کے نزول کا سبب بنے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں کل جواب دوں گا لیکن اس کے بعد ۱۵ دن تک جبریل وحی لے کر نہیں آئے۔ پھر جب آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان شاء اللہ کہنے کا یہ حکم دیا۔ آیت میں کل (غد) سے مراد مستقبل ہے یعنی جب بھی مستقبل قریب یا بعد میں کوئی کام کرنے کا عزم کرو تو ان شاء اللہ ضرور کہا کرو کیونکہ انسان کو تو پتہ نہیں کہ وہ جس بات کا عزم ظاہر کر رہا ہے اس کی توفیق بھی اسے اللہ کی مشیت سے ملنی ہے یا نہیں؟ ٭ یعنی اگر کلام یا وعدہ کرتے وقت ان شاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو جس وقت بھی یاد آ جائے ان شاء اللہ کہہ لو یا پھر رب کو یاد کرنے کا مطلب، اس کی تسبیح و تحمید اور اس سے استغفار ہے۔ ٭ یعنی میں جس کا عزم ظاہر کر رہا ہوں، ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اور مفید کام کی طرف میری رہنمائی فرما دے۔ وَلَبِثُوْا فِیْ کَہْفِہِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیْنَ وَازَدَادُوْا تِسْعًا وہ لوگ اپنی غار میں تین سو سال تک رہے اور نو سال اور زیادہ گزارے (۲۵)٭۔