کتاب: متنازع مسائل کے قرآنی فیصلے - صفحہ 47
لئے وہ بجا طور پر ان کی حفاظت کو اپنی عزت و وقار کے لئے ضروری سمجھتے رہے۔ اگر ان کو پتہ چل جاتا غیب کا علم جانتے ہوتے تو ظاہر بات ہے کہ انہیں یہ پریشانی ہرگز لاحق نہ ہوتی جو انہیں ہوئی اور جس کا نقشہ یہاں قرآن مجید نے کھینچا ہے۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰتِکَ مِنْ حَقٍّ وَاِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَانُرِیْدُ (۷۹) انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری بیٹیوں پر کوئی حق نہیں ہے اور تو ہماری اصلی چاہت سے بخوب واقف ہے٭۔ ٭ یعنی ایک جائز اور فطری طریقے کو انہوں نے بالکل رد کر دیا اور غیر فطری کام اور بے حیائی پر اصرار کیا۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ قوم اپنی اس بے حیائی کی عادت خبیثہ میں کتنی آگے جا چکی تھی اور کس قدر اندھی ہو گئی تھی؟۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْ اِلیٰ رُکْنٍ شَدِیْدٍ (۸۰) لوط نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا٭۔ ٭ قوت سے مراد اپنے دست و بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی