کتاب: مشاجرات صحابہ اور سلف کا مؤقف - صفحہ 62
عادل ہیں اور ان کی روایت و شہادت مقبول ہے۔‘‘ (شرح مسلم ص 272ج 2) اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم قتال سے علیحدہ کیوں رہے ؟ امام نووی رحمہ اللہ نے گو تیسرے فریق کے لئے حق واضح نہ ہونے کی وجہ سے ان لڑائیوں میں حصہ نہ لینے کا سبب قرار دیا ہے مگر دوسری رائے یہ ہے اور یہی اقرب الی الصواب ہے کہ ان حروب میں حصہ نہ لینے کا سبب فتنہ سے بچاؤ کی بنا پر تھا۔ کیونکہ بہت سی نصوص میں باہمی خانہ جنگی کو فتنہ سے تعبیر کیاگیا ہے، اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی بنا پر اس سے دستکش رہے امام محمد بن سیرین سے بسند صحیح منقول ہے انہوں نے فرمایا : فتنہ رونما ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دس ہزار کی تعداد میں تھے ان میں ایک سو بلکہ تیس کے قریب شریک ہوئے۔ (السنۃ للخلال ص 466) [1] ان کا یہی قول شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی ذکر کیا ہے جس کی سند کے بارے میں وہ فرماتے ہیں : ’’ھذا الإسناد أصح أسناد علی وجہ الأرض‘‘کہ یہ سند روئے زمین پر سب سے زیادہ صحیح ہے (منہاج ص 186ج 3) اسی طرح موصوف ایک دوسرے مقام پرفرماتے ہیں : ’’اکثر صحابہث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں کیا بیشتر صحابہث سرے سے جنگ میں شریک ہی نہیں ہوئے۔ نہ اس طرف نہ اس طرف جیسے سابقین اولین میں سعد بن ابی وقاص‘عبداللہ بن عمر‘اسامہ رضی اللہ عنہ بن زید‘ محمد بن مسلمہ وغیرہ ہیں حالانکہ یہ سبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت رکھتے تھے اور انھیں باقی سب پر مقدم جانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اپنے
[1] اس کے برعکس تاریخ خلیفہ بن خیاط ص 194 میں اور اسی کے حوالہ سے حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے تاریخ اسلام (ص 445ج 1)میں، حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت عبداﷲ کے ہمراہ جنگ صفین میں 800 وہ صحابہ رضی اللہ عنہم تھے جو بیعت رضوان میں شریک ہوئے جن میں 63 حضرات شہید ہو گئے۔ انہی میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی تھے، مگر یہ قول سنداً صحیح نہیں کیوں کہ اس کا راوی یزید بن عبدالرحمٰن ابوخالد الدالانی کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے: صدوق یخطئ کثیرا و کان یدلس ( التقریب ص 584) کہ وہ صدوق ہے اکثر غلطی کرتا ہے اور مدلس ہے، یہ قول بھی اس نے معنعن ذکر کیا ہے۔ اس لیے امام ابن سیرین کے قول کے مقابلہ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔