کتاب: مشاجرات صحابہ اور سلف کا مؤقف - صفحہ 119
مارے گئے وہ شہید ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو حق پر سمجھتا تھا، اگرچہ فی الحقیقت ایک گروہ حق پر تھا اور دوسرا غلطی پر، اور وہ غلطی اجتھادی تھی۔ جس کی اللہ تعالی کی طرف سے معافی ہے، اور سوال میں جو یہ لکھا ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو اہل سنت میں سے سمجھے اور تعصب کی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کورضی اللہ عنہ نہ کہے بلکہ ان کے بارے میں بدزبانی کرے اس کا کیا حکم ہے تو ا س کاجواب یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی، اس لڑائی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خطاء پر، اور اس اجتھادی غلطی پر اہل سنت کے نزدیک سب وشتم اور بد گوئی کرنا درست نہیں ہے بلکہ فاسق معین اور مرتکب کبیرہ کو بھی لعنت کرنا جائز نہیں ہے، چہ جائیکہ اجتھادی غلطی پر اس کی بد گوئی کی جائے، لہذا اگر کوئی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تعصب اور بغض کی وجہ سے " رضی اللہ عنہ" نہیں کہتا وہ حدیث کی وعید میں مبتلا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو جو ان کو برا کہے گا اس پر اللہ کی لعنت ہو گی، اور جو گالی دیتا اور برا کہتا
ہے وہ درپردہ رافضی ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو اہل سنت ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح وہ بدبخت جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بد گوئی کرتاہے حقیقت میں وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتا ہے۔ اسے آپ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ایسے برے عقیدہ سے توبہ کرنا لازمی ہے اور اہل سنت کے مسلک کو اختیار کرنا چاہیے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی عقیدہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ چاروں خلفاء کی خلافت جس ترتیب سے ہے اسی ترتیب سے ان کا مرتبہ و مقام ہے، اور ہر ایک صحابی کی جو فضیلت صحیح احادیث میں وارد ہے اور اہل سنت کے عقائد میں مذکور ہے اسے بہرنوع ملحوظ رکھنا چاہیے تا کہ ہم بھی زمرہ اہل سنت میں شمار ہوں ۔ جس کی تفصیل شرح مواقف‘شرح مقاصد‘ اور ازالۃ الخفاء میں ملاحظہ کر لینی چاہیے، تاکہ اپنی جہالت اور نادانی سے باہر آ سکیں اور اہل سنت کے موقف و مسلک کو معلوم کر سکیں ۔
(فتاویٰ نذیریہ ص 456,445 )
ہم اسی پر اس رسالہ کا اختتام کرتے ہیں ۔ ورنہ بعد کے علماء کے اقوال اور آراء کو ذکر کیا جائے تو اس کا حجم دو نہیں بلکہ سہ چند ہو جائے گا۔اس سے یہ بات نصف ا لنہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بہر نوع کف لسان کرنا چاہیے، ان کے