کتاب: مشاجرات صحابہ اور سلف کا مؤقف - صفحہ 118
ہوگئے۔ کیونکہ اہل سنت کے نزدیک صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہ کہنا بالاتفاق مستحب ہے اور صحابی ہونے کی حیثیت سے ان کے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں بھی حضرت اور رضی اللہ عنہ کے الفاظ کہنا مستحب ہے ممنوع نہیں ۔ کیونکہ آپس کی لڑائی سے صحابہ رضی اللہ عنہم صحابیت کی بزرگی سے محروم نہیں ہو جاتے ہاں رافضی کا مذہب اس کے خلاف ہے۔ البتہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں درجے کا بہت فرق ہے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ۔ کثیر الصحبت ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہیں اور صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہ اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں کے لیے رحمہ اللہ کہنا مستحب ہے، غیر صحابی خواہ کتنے بڑے درجے کاآدمی ہو کسی ادنی صحابی کے درجہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا، شرف صحبت کے بہت سے حقوق ہیں ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں لہٰذا تمام روئے زمین کے غیر صحابہ سے افضل ہیں اگرچہ صحابہ‘ صحابہ میں فرق عرش سے لیکر فرش تک سے بھی زیادہ ہے۔ لہٰذا ان کو دعائے خیر سے یاد کرنا چاہیے او ر ان کے متعلق دل میں کینہ اور عداوت نہ رکھنا چاہیے۔ اور ہمارے دلوں میں ہر صحابی کے لیے اتنی ہی محبت ہونی چاہیے جتنی کہ ا ن کی محبت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔ اور جو جھگڑے صحابہث میں ہوئے وہ اجتہادی غلطی کی بنا پر سر زد ہوئے اور اجتہادی غلطی سے کو ئی شخص کافر نہیں ہو جاتا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود فرما یا تھا کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑنے لگے کیونکہ شبہ اور تاویل سے ان کے دلوں میں کجی آ گئی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یہ مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرائے گا۔ جیسا کہ قاضی ثناء اللہ صاحب نے السیف المسلول میں اور ملا علی قاری نے نھج الازھر میں فرمایا ہے اور شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے تحفہ اثنا عشریہ میں لکھا ہے کہ شیعہ کی کتابوں میں تواتر سے لکھا ہوا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شامیوں پر لعنت کرنے سے منع فرمایا۔ اور فرمایا کہ اپنے بھائیوں سے لڑائی چھڑ گئی ہے کیونکہ شبہ و تاویل کی وجہ سے ان کے دل ٹیڑھے ہو گئے ہیں ۔شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اہل سنت کا اتفاق ہے کہ صحابہ کرام کے جھگڑوں اور ان کی بدگوئی سے اپنی زبان بند رکھنی چاہیے (شیخ جیلانی کا مکمل کلام پہلے ہم نقل کر آئے ہیں ) حضرت شیخ جیلانی محبوب سبحانی کے اس کلام سے یہ بات نکھر کر واضح ہو جاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی مشاجرات بر بنائے اجتھاد تھے، ہمیں چاہیے کہ اس معاملہ میں خاموش رہیں ۔اور ان کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کر دیں ۔ طرفین میں جو ان جنگوں میں