کتاب: مشاجرات صحابہ اور سلف کا مؤقف - صفحہ 117
تو اس کا کیا حکم ہے، جس کا اولاًجواب مولوی محمد فصیح غازی پوری نے دیا جسکا خلاصہ یہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں جہاں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہو وہاں لفظ حضرت یا دعائیہ الفاظ کہنا درست نہیں، البتہ انہیں برا بھلا کہنا درست نہیں اس سے زبان کو روکنا چاہئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ راشد کے خلاف بغاوت کی اس لیے انہیں غلط کار اور باغی سمجھنا چاہیے، اگر خطا و بغاوت کا ازالہ ہو جاتا تو علماء ان کو خاطی اور باغی کیوں کہتے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے کے بغیر ان کے نام کے ساتھ حضرت کا لفظ کہنا چاہیے کیونکہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ۔
یہ جواب حضرت میاں صاحب کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے اس کی تردید کی، اور اہل سنت کے موقف کی خوب وضاحت فرمائی مزید یہ کہ ایک درجن کے قریب کبار علماء نے حضرت میاں صاحب کے اس فتویٰ کی تائیدو حمایت کی اور اسے حق و صواب قرار دیا۔ یہ سوال و جواب فارسی میں ہے جو فتاوی نذیریہ جلد سوم صفحہ 445 سے 452 تک تقریباً بارہ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہم اس کا خلاصہ اردو میں یہاں نقل کئے دیتے ہیں ۔
اہل عقل و دیانت پر مخفی نہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ۔ابن بطال نے بسند صحیح ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالیاں نہ دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ان کا ایک ساتھ بیٹھنا تمہارے چالیس سال کے اعمال سے بہتر ہے، اور وکیع کی روایت میں عمر بھر کے اعمال سے بہتر ہے، کے الفاظ ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے آپ سے 163 احادیث مروی ہیں جو صحاح ستہ اور دوسری کتابوں میں مروی ہیں ۔ ان سے بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم نے روایت کی ہے مثلاً عبداللہ بن عباس ‘عبداللہ بن عمر‘عبداللہ بن زبیر‘ابو الدرداء‘جریر بن عبداللہ البجلی‘نعمان بن بشیر وغیرہ اور تابعین میں سے سعید بن مسیب‘حمیدبن عبدالرحمن وغیرہ روایت کرتے ہیں ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک رکعت وتر پڑھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عباس کے غلام پاس تھے۔انہوں نے جا کر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک رکعت وتر پڑھا ہے تو انہوں نے فرمایا جانے دو وہ رسول ا کے صحابی ہیں ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے ٹھیک کیا وہ ایک فقیہ صحابی ہیں ۔صحیح بخاری میں آپ کا صحابی رضی اللہ عنہ ہونا اور بزبان ابن عباس عادل اور فقیہ ہونا ثابت ہو گیا تو آپ ترضی اور ترحم کے مستحق