کتاب: مسلمان خاندان اسلام کی آغوش میں - صفحہ 320
دل سے قدر کرتی ہیں اور مجھے خاندان میں عزت اور وقار حاصل ہوا ہے وہ پہلے نہ تھا۔ ہم ایسے لوگوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہیں گے جو یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ہماری بیٹیوں یا بہنوں نے تو اپنا حصہ لینے سے انکار کردیا ہے، کہ آپ پہلے ان کاحصہ ان کے نام پر منتقل کریں، انہیں ان کے حصے کا وارث بنائیں، زمین، پلاٹ، جائیداد یا مکان میں ان کو شریک کریں، اور ان کا حصہ ان کے قبضہ میں دیں۔ جب جائیداد ان کے نام منتقل ہو جائے اور وہ اس کی وارث بن جائیں، اپنا مال یا اپنا حصہ اپنے قبضہ میں لے لیں تو اس کے بعد وہ اگر کسی کو ہبہ کریں تو ان کی مرضی ہے بشرطیکہ ان پر کوئی دباؤ نہ ہو۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو کہ بیٹیوں بہنوں کو ان کے حق سے زبردستی محروم کردیا جائے، یا ان کو قطع تعلق کی دھمکی دے کر ان کا حصہ ہتھیا لیا جائےتو پھر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا آدمی قیامت کے روز بارگاہ الٰہی میں ایک مجرم کی حیثیت سے حاضر ہوگا اور بیٹی یا بہن اس سے اپنے حق کا مطالبہ کر رہی ہو گی۔مگر اس کےپاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو گا ماسوائے نیکیوں کے اور جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو حقداروں کے گناہ اس پر ڈال کر اسے عذاب الیم سے دو چار کردیا جائےگا۔اللہ تعالیٰ ہمارے حال پررحم فرمائےاور ہمیں کامیاب لوگوں میں شامل فرمائے۔آمین۔