کتاب: مسلمان خاندان اسلام کی آغوش میں - صفحہ 319
ساری زمین اپنے بیٹے کے نام منتقل کروادی تھی جبکہ اپنی بیٹیوں کو محروم کردیا۔ پھر اس بیٹے نے اپنی ساری زمین اپنے بیٹے یعنی مذکورہ استاد محترم کے نام منتقل کردی۔ اور بیٹیوں کو کچھ نہ دیا۔ یہ بھی اکیلے ہی تھے جن کی تین بہنیں تھیں۔ والد گرامی کو اللہ نے الحمد للہ اصلاحی ذہن عطا فرمایا ہے، انھوں نے استاد محترم سے اس معاملہ میں وقتاً فوقتاً بات شروع کردی۔ والد صاحب ان کو مسلسل سمجھاتے رہے کہ اس زمین میں آپ کی بہنوں اور پھوپھیوں کا حق ہے، آپ ان کا حق ان کو دے دیں، ان شاء اللہ اللہ آپ کو اس نیکی کا اجر ضروردیں گے، اور آپ دنیا وآخرت میں کامیاب و کامران ہو جائیں گے۔ وہ ان کو مسلسل سمجھاتے رہے اور خوف الٰہی سے ڈراتے رہے، کسی شاعر نے کہا ہے کہ: گر پتھر پہ پانی پڑے متصل تو بلا شبہ گھس جائے پتھر کی سل آخر کاران کی کوشش رنگ لائی، اور استاد محترم نے اس معاملہ میں اپنی بہنوں اور پھوپھیوں سے بات کی لیکن ازراہ مروت انھوں نے انکار کردیا۔ مگر جب انھوں نے پوری وضاحت کے ساتھ سمجھایا اور انہیں بتایا کہ یہ میرے اوپر بوجھ ہے، میں تو اللہ کے خوف سے آپ لوگوں کو آپ کا حق واپس کرنا چاہتا ہوں تو وہ سب کی سب تیار ہو گئیں۔ انھوں نے کھلے دل کے ساتھ سب کو ان کا حق ادا کردیا۔ اللہ نے انہیں اس نیک عمل کی بنیاد پر کئی نعمتوں سے مالا مال کردیا: ٭ وہ نماز کے قریب بھی نہ جاتے تھے لیکن اس کے بعد باقاعدہ نماز شروع کردی۔ ٭ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور پھر دوبارہ اپنی بیوی کو لے کر حج پر گئے۔ ٭ اپنے گھر کے قریب ایک چھوٹی سی مسجد بنوائی جہاں پانچ وقت نماز اور جمعۃ المبارک کا اہتمام کروایا۔ ٭ اللہ نے دل کا سکون اور اطمینان نصیب فرمایا۔ ٭ پہلے داڑھی منڈواتے تھے مگر پھر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چہرے پر سجالیا۔ ٭ وہ ایک دن والد گرامی کو بتانے لگے کہ جس طرح اب میری بہنیں اور پھوپھیاں میری