کتاب: مسلمان خاندان اسلام کی آغوش میں - صفحہ 318
میرے حالات ٹھیک ہیں۔ اس نے یہ حصہ مجھے میری شادی میں بطور تعاون مجھے ہبہ کردیا۔ شریعت اس کے متعلق کیا کہتی ہے؟
جواب۔ اگر آپ کی بہن صاحب شعور ہے اور اپنی خوشی سے آپ کو اپنا حصہ آپ کی شادی کے لیے بطور تعاون دے رہی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ کتاب و سنت کے دلائل میں اس بات کی رہنمائی موجود ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے مال سے اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کو کچھ ہبہ کر دیتی ہے تو اس میں شرعی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے۔ جیسا کہ صاحب شعور عورت اگر اپنے مال میں سے صدقہ کرتی ہے تو وہ بالکل جائز ہے۔(ابن باز)
نوٹ:٭ میں مترجم عرض کر رہا ہوں کہ ہمارے ملک میں عام طور پر بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد اور وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا اور زمانہ جاہلیت کے اندھے قوانین کی یاد تازہ کرتے ہوئے انہیں ان کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ قبل از اسلام اس ظلم کی دلیل یہ دی جاتی تھی کہ عورت کمزور ہے، نہ ہی جنگ میں شریک ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کوئی سخت مشقت اٹھا سکتی ہے جبکہ آج کل کے نام و نہاد مسلمانوں کا فلسفہ یہ ہے کہ ہماری بیٹی یا ہماری بہن اپنی جائیداد میں حصہ نہیں لیتی اور اس نے اپنے حصے کی زمین، اپنا پیسہ اور اپنی وراثت اپنی خوشی سے اپنے بھائی یا باپ کی جھولی میں ڈال دی ہے۔
قارئین کرام! جب بہن کو یہ یقین ہو کہ اگر میں نے اپنے حصہ کی زمین مانگی یا مکان و جائیداد میں اپنے حق کا مطالبہ کیا تو میرا بھائی یا میرا باپ زندگی بھر کے لیے میرے ساتھ بات کرنے کے لیے بھی تیار نہ ہو گا اور میرے گھر کی دہلیز پر قدم نہ رکھنے کی قسم اٹھائے گا تو وہ بیچاری کیسے مطالبہ کرے گی اور کیسے اپنا حق جتائے گی؟
ہم نے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو ان کا جائز اور مکمل حق دینے کی بجائے جہیز جیسی لعنت کو اپنایا اور اس ہندوانہ رسم کو گلے سے لگایا اور بیٹیوں بہنوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے انہیں محرومیت کی اندھی غار میں دھکیل دیا۔
ہمارے سکول کے ایک محترم استاد جو کہ میرے والد صاحب کے دوست بھی ہیں، اپنے والد صاحب کی بہت سی زرعی زمین کے وارث بنے مگر ظلم در ظلم یہ ہوا کہ ان کے دادا نے اپنی