کتاب: مسلمان خاندان اسلام کی آغوش میں - صفحہ 316
راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔لےپالکوں کو ان کے(حقیقی)باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ۔اللہ کے نزدیک مکمل انصاف یہی ہے۔ اگر تمھیں ان کے حقیقی باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں اور تمھارے دوست ہیں۔‘‘
اس آیت کریمہ میں اللہ یہ فرما رہے ہیں کہ اگر کوئی آدمی کسی کو اپنا منہ بولا بیٹا بناتا ہے تو وہ اس کا حقیقی بیٹا نہ ہوگا اور نہ ہی حقیقی بیٹے والے حقوق لے سکے گا اور ضروری ہے کہ اس کو اس کے حقیقی باپ کی طرف ہی منسوب کیا جائے۔ اس کے متعلق مزید چند احکام درج ذیل ہیں:
٭ اگر منہ بولے بیٹے کے حقیقی باپ کا علم ہو تو اس کو حقیقی باپ کی طرف منسوب کیا جائے گا ورنہ وہ دینی بھائی ہیں۔
٭ وہ حقیقی بیٹے کی طرح میراث میں شریک نہ ہوگا جیسا کہ پہلےذکر ہو چکا ہے، گر اس کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے جو کہ شرعی تقاضوں کے مطابق ہوگی۔تمام مال کی وصیت نہیں ہو گی۔
٭ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی جائز ہوگی بشرطیکہ وہ طلاق دے دے یا فوت ہو جائے یا عورت خلع لے لے۔اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ان کے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے کردیا اور اس کی حکمت بھی واضح کردی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ) [1]
’’ہم نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جبکہ وہ اپنی غرض ان سے پوری کر لیں۔ ‘‘
یاد رہے کہ حقیقی بیٹوں سے نکاح حرام ہے۔ اس کی وضاحت بھی قرآن مجید میں ہے کہ:
’’تمھارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں۔‘‘[2]
[1] ۔ 33/الاحزاب:37۔
[2] ۔ 4/النساء:23۔