کتاب: مسلمان خاندان اسلام کی آغوش میں - صفحہ 311
وصیت کرنا چاہتا ہو،پھر دوراتیں بھی اس کے بغیر گزاردے،یعنی اس کے پاس ہروقت وصیت لکھی ہونی چاہیے۔‘‘ [1]
چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ ہر وقت اپنی تحریری وصیت اپنے پاس رکھا کرتے تھے اور وصیت کے متعلق افراط بایں طور پر کیا جاتا ہے کہ جن ورثاء کے لیے وصیت ناجائز ہوتی ہے ان کے لیے وصیت کا بندوبست کردیاجاتا ہے یا جن کے لیے وصیت کرناجائز ہے ان کے لیے شریعت کی قائم کردہ حد سے زیادہ وصیت کر دی جاتی ہے یا پھر وصیت بے انصافی اور ظلم پر مبنی ہوتی ہے۔پھر لواحقین اس قسم کی ظلم پر مبنی وصیت کو ایسی پختہ لکیر خیال کرتے ہیں کہ جسے مٹانا یا اس میں ترمیم کرنا ان کے ہاں گناہِ کبیرہ ہے،حالانکہ اس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:
’’ہاں،جو شخص وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا اندیشہ رکھتا ہو،اگر وہ آپس میں ان کی اصلاح کردے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘[2]
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غلط وصایا کی اصلاح فرمائی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے:
’’ ایک انصاری کی کل جائیداد چھ غلام تھے۔اس نے وصیت کے ذریعے انہیں آزاد کردیا۔اس کے مرنے اور کفن و دفن کے بعد اس کے ورثاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حقیقت حال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرنے والے کو سخت برابھلا کہا، پھر اس کی وصیت کو کالعدم کرتے ہوئے ان چھ غلاموں کے متعلق قرعہ اندازی کی،چھ کا ایک تہائی۔ یعنی دو غلام آزاد کردئیے اور باقی چار ورثاء کے حوالے فرماکر ان کے نقصان کی تلافی فرمادی۔‘‘ [3]
دیگر روایات میں اس کے متعلق قول شدید کی وضاحت بھی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
[1] ۔ صحيح بخاري،االوصية :2738۔
[2] ۔ 2/البقرة:182۔
[3] ۔ صحيح مسلم، الايمان :1668۔