کتاب: مسلمان خاندان اسلام کی آغوش میں - صفحہ 308
ہواور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑاہو،خواہ مال تھوڑا ہو یا بہت ہواور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔‘‘[1]
اس آیت کریمہ کے پیش نظر کسی وارث کو بلاوجہ شرعی وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین وراثت نے ان وجوہات کو بڑی دلیل سے بیان کیا ہے جو وراثت سے محرومی کا باعث ہیں،عام طور پر اس کی دو اقسام ہیں:
1۔پہلی قسم میں وہ موانع شامل ہیں جو فی نفسہ وراثت سے محرومی کا باعث بنتے ہیں، ان میں غلامی، قتل ناحق اور اختلاف ملت یعنی کفر وراتد وغیرہ ہیں۔دوسری قسم میں وہ موانع ہیں جو فی نفسہ تو رکاوٹ کا باعث نہیں، البتہ بالتبع محروم کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان میں وارث اور مورث کا اشتباہ سر فہرست ہے جیسے ساتھ غرق ہونے والے، آگ میں جل کر اس دنیاسے رخصت ہونے والے ہیں۔ اگر ان کے درمیان وراثت کا رشتہ قائم ہو تو ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے بشرطیکہ پتہ نہ چل سکے کہ ان میں پہلے اور بعد میں کون فوت ہوا ہے۔احادیث میں بھی اس کی وضاحت ملتی ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
’’جو کسی کی وراثت کو ختم کرتا ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا ہے، اللہ جنت میں اس کی وراثت کوختم کر دیں گے۔‘‘[2]
اسی طرح سید انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو اپنے وراثت کو حصہ دینے سے راہ فرار اختیار کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کا حصہ جنت سے ختم کردیں گے۔‘‘[3]
اگرچہ مؤخر الذکر روایت میں ایک راوی زید العمی ضعیف ہے، تاہم اس قسم کی روایت بطور تائید پیش کی جا سکتی ہے۔مختصراً یہ کہ اگر بیٹانافرمان ہے تو وہ اپنی سزا اللہ کے ہاں پائے گا، لیکن والد کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اسے جائیداد سے محروم کردے۔ بعض لوگ محض ڈرانے کے
[1] ۔ 4/النساء:7۔
[2] ۔ شعب الايمان للبيهقي:14/115۔
[3] ۔ ابن ماجه،كتاب الوصايا:2703۔