کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 98
ہاتھ باندھنے کی جگہ : نماز میں قیام کے دوران میں ہاتھ باندھنے کی جگہ یا مقام کے بارے میں اہلِ علم کے تین اقوال ہیں : 1-پہلا یہ کہ ناف سے اوپر سینے کے نیچے ہاتھ باندھے جائیں۔ 2- دوسرا یہ کہ سینے پر ہاتھ باندھے جائیں۔ 3- تیسرا یہ کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھے جائیں۔ لہٰذا آئیے ان تینوں اقوال کے قائلین کے دلائل دیکھیں اور ان کا جائزہ لیں، تا کہ ان اقوال میں سے صحیح تر کا تعیّن کیا جا سکے۔ سینے پر ہاتھ باندھنے کے دلائل: ناف سے اوپر اور سینے کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائلین شافعیہ اور بقول امام نووی رحمہ اللہ جمہور اہلِ علم ہیں۔ ایک روایت میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مسلک بھی یہی ہے اور ایک روایت میں امام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے، جبکہ دوسری اور مشہور روایت کے مطابق امام مالک کا مسلک ’’اِرسال‘‘ (ہاتھوں کو لٹکتے چھوڑ دینا) ہے۔[1] سینے پر ہاتھ باندھنے کے دلائل یہ ہیں: 1-پہلی دلیل: ناف سے اوپر لیکن سینے کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائلین کی پہلی دلیل وہ حدیث ہے جس میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں : (( اَنَّہٗ رَاَی النَّبِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَضَعَ یَمِیْنَہٗ عَلٰی شِمَالِہٖ ثُمَّ وَضَعَہُمَا عَلٰی صَدْرِہٖ )) [2] [1] تحفۃ الأحوذي (۲/ ۸۳، ۸۴) [2] ابن خزیمۃ، رقم الحدیث (۴۷۹) سنن البیھقي (۲/ ۳۰) طبراني (۲۲/ ۵۰)