کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 95
احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتی ہے، بلکہ خاص امام مالک رحمہ اللہ کی اپنی شہرۂ آفاق کتاب موطأ میں وارد بعض احادیث بھی اسی بات کا پتا دیتی ہیں۔ چنانچہ مؤطا امام مالک ’’باب وَضْعِ الْیَدَیْنِ اِحْدَاہُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فِی الصَّلَاۃِ‘‘ میں اس موضوع کی دو حدیثیں امام صاحب نے روایت کی ہیں، جن میں سے پہلی حدیث میں امام مالک، عبدالکریم بن ابی المخارق بصری سے بیان کرتے ہیں : ’’یہ بات کلامِ نبوت میں سے ہے (یعنی تمام شرائع انبیا علیہم السلام میں موجود رہی ہے) کہ جب کسی کو پاسِ حیا نہ رہے تو پھر وہ چاہے کچھ بھی کرے۔ (اس کے لیے سب برابر ہے) اور یہ بات بھی کلامِ نبوت میں سے ہے کہ نماز میں ایک ہاتھ کو دوسرے پر باندھا جائے، دائیں کو بائیں پر رکھا جائے، اور (غروبِ آفتاب کے بعد) افطاری میں جلدی کی جائے اور سحری کھانے میں تاخیر کی جائے۔ (آدھی رات کو کھانے سے نہ رک جائیں۔)‘‘[1] امام مالک کی بیان کردہ حدیث کی تائید حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ہم جماعتِ انبیا علیہم السلام ہیں۔ ہمیں افطاری میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ہم تمام انبیا کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز میں اپنے دائیں ہاتھوں کو بائیں ہاتھوں پر رکھا کریں، یعنی باندھیں۔‘‘[2] [1] موطا الإمام مالک مع الزرقاني (۱/ ۳۲۰، ۳۲۱) [2] ابن حبان، رقم الحدیث (۸۸۵) الموارد، أحکام الجنائز (ص: ۱۱۷) صحیح الجامع (۱/ ۲/ ۲۶۷، ۲۶۸) رقم الحدیث (۲۲۸۶)