کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 91
اب پھر یہاں ذرا اس شخص کے فعل پر نظرِ ثانی کر لیں جو تکبیرِ تحریمہ کہتے اور رفع یدین کرتے وقت اپنے کانوں کو انگشت ہائے شہادت اور انگوٹھوں سے پکڑلیتا ہے۔ اس کی ہتھیلیاں نہ تو مالکی مسلک کے مطابق آسمان کی طرف رہتی ہیں اور نہ دیگر تینوں مسالک کے فقہا اور جمہور علمائے امت کے مسلک کے مطابق قبلے کی طرف رہ سکتی ہیں، بلکہ اس انداز سے تکبیرِ تحریمہ کہنے اور رفع یدین کرنے سے اس کی ہتھیلیاں صرف اس کے اپنے ہی کانوں یا چہرے کی طرف ہوتی ہیں، یا پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی جنوب کی طرف اور بائیں کی شمال کی طرف ہوتی ہے، جبکہ یہ اندازِ رفع یدین کسی سے بھی ثابت نہیں۔ لہٰذا تکبیرِ تحریمہ اور رفع یدین کا وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے، جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے یا جمہور کا اختیار کردہ ہے۔ رفع یدین کی حکمتیں: تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ رفع یدین کرنے کی کئی حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ۔ علامہ ابنِ عبدالبر نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: (( رَفْعُ الْیَدَیْنِ مِنْ زِیْنَۃِ الصَّلَاۃِ )) ’’رفع یدین نماز کی زینت ہے۔‘‘ ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: (( بِکُلِّ رَفْعٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، بِکُلِّ اَصْبَعٍ حَسَنَۃٌ )) ’’ایک مرتبہ رفع یدین کرنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور ہر انگلی کے عوض ایک نیکی۔‘‘ (دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں ہوتی ہیں) بظاہر تو یہ ایک صحابی کا اثر ہے، لیکن درحقیقت یہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع حدیث ہے، کیوں کہ یہ بات ایسی ہے جس میں اجتہاد کا کوئی دخل نہیں۔ ۔ ربیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا: ’’مَا مَعْنٰی رَفْعِ