کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 88
کے وقت رفع یدین کرتے ہوئے اپنے کانوں کو نہ صرف یہ کہ ہاتھ لگاتے ہیں، بلکہ کئی لوگ ایسے بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ وہ کانوں کی لوؤں کو باقاعدہ پکڑ بھی لیتے ہیں، حالانکہ احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بلکہ احادیثِ صحیحہ کی رو سے سنت صرف دونوں ہاتھوں کو کانوں یا کندھوں کے برابر تک اٹھانا ہے نہ کہ کانوں کو انگوٹھے لگانا اور انھیں پکڑنا۔ جو لوگ تکبیرِ تحریمہ کے وقت اپنے کانوں کو انگشت ہائے شہادت اور انگوٹھوں سے پکڑ لیتے ہیں، ان کی ہتھیلیاں ظاہر ہے کہ ان کے اپنے منہ یا گالوں کی طرف ہو جاتی ہیں اور اگر مزید وسعت سے کام لیں تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ (پاک و ہند میں) اس کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی جنوب کی طرف اور بائیں ہاتھ کی ہتھیلی شمال کو ہوتی ہے، جبکہ یہ اندازِ رفع یدین نہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اور نہ ائمہ و مجتہدین رحمہم اللہ ہی نے ایسے رفع یدین کا کہا ہے۔ بلکہ رفع یدین کے وقت ہتھیلیوں کے قبلہ رو ہونے کا پتا بعض آثار سے بھی چلتا ہے جن کا ذکر ہم آگے چل کر کریں گے۔ مالکیوں کے سوا تینوں ائمہ رحمہم اللہ ، ہتھیلیوں کو قبلہ رو رکھنے ہی کے قائل ہیں، جبکہ مالکیہ ہتھیلیوں کو آسمان کی طرف رکھنے کا کہتے ہیں۔ لہٰذا رفع یدین کرتے اور تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت ان لوگوں کا انداز جو کانوں کو پکڑ لیتے ہیں، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تعاملِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ جمہور ائمہ رحمہم اللہ اور علمائے امت کے بھی خلاف ہے، بلکہ صحیح تو یہ ہے کہ یہ فعل وہم یا وسواس کا نتیجہ ہے۔[1] رفع یدین کے وقت ہاتھوں اور ہتھیلیوں کی کیفیت: اب آئیے یہ بھی دیکھ لیں کہ رفع یدین کے وقت ہاتھوں اور ہتھیلیوں کی کیفیت کیا ہونی چاہیے؟ بالفاظِ دیگر رفع یدین کرتے وقت ہاتھوں کو کیسے رکھنا چاہیے؟ [1] تحقیق المشکاۃ (۱/ ۲۵۲)