کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 86
ہے۔ جبکہ ان میں سے بعض احادیث میں ہاتھوں کو اٹھانے کی حد یعنی کندھوں کا بھی ذکر آیا ہے۔ جبکہ بعض دوسری احادیث ایسی بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رفع یدین کے لیے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھانا چاہیے، جیسا کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے جس میں وہ بتاتے ہیں : ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے، حتیٰ کہ دونوں کانوں کے برابر تک لے جاتے تھے۔‘‘[1] جبکہ ایک حدیث میں ہے: ’’یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں کو کانوں کی چوٹیوں تک اٹھاتے تھے۔‘‘[2] یہاں یہ بات پیشِ نظر رکھیں کہ حدیث میں (( فُرُوْعَ اُذُنَیْہِ )) کے الفاظ آئے ہیں اور اس ’’فروع‘‘ کا معنیٰ کانوں کی چوٹیاں ہیں، جو کانوں کی اوپر والی بالائی جانب ہے، نہ کہ نیچے والی لوئیں، کیوں کہ کانوں کی لوؤں کے لیے ’’شحمۃ‘‘ کا لفظ آتا ہے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہاتھوں کو اٹھانے کی حدود تین مقامات ہیں : (1) کندھوں تک۔ (2) کانوں تک۔ (3)کانوں کی چوٹیوں تک۔ بلاتفریق مَرد و زَن کندھوں یا کانوں تک ہاتھوں کو اٹھایا جائے۔ کوئی مرد کندھوں تک ہاتھ اٹھائے یا کانوں تک اور کوئی عورت کانوں تک ہاتھ اٹھائے یا کندھوں تک، ہر طرح جائز اور درست ہے۔ [1] صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۹۴) صحیح نسائي، رقم الحدیث (۸۴۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۸۵۹) الفتح الرباني (۲/ ۲۲۱) [2] صحیح مسلم (۴/ ۹۵) صحیح نسائي (۱/ ۱۹۲) رقم الحدیث (۸۴۹)