کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 77
حتیٰ کہ احناف میں سے امام طحاوی رحمہ اللہ کے کلام سے پتا چلتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی اطمینان واجب ہے۔[1] غرض یہ حدیث ان لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے جو جلدی جلدی نماز پڑھتے ہیں۔ قیام و قومہ، رکوع و سجود اور جلسہ و قعدہ سے بڑی تیز رفتاری کے ساتھ گزرتے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح سے نماز پڑھنے والے صحابی کو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ ’’تم نے گویا نماز پڑھی ہی نہیں۔‘‘ تو گویا بے اطمینان و بے سرور نماز مقبول ہی نہیں ہوتی۔ مسنون طریقہ و ترکیبِ نماز کے سلسلے میں ایک حدیث حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس کے دو معروف صیغے ہیں، جن میں سے ایک میں حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے والے راوی فرماتے ہیں: ’’میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے مابین بیٹھا تھا کہ ہم نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مسنون طریقے کی بات چھیڑی تو حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر خوب مضبوطی سے رکھ لیتے تھے اور کمر کو (کھینچ کر) جھکا لیتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ ریڑھ کی ہڈی کے تمام جوڑ اپنی اپنی جگہ پر واپس آجاتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اس طرح زمین پر رکھتے کہ کلائیاں زمین پر نہ لگی ہوتیں [1] فتح الباري (۲/ ۲۷۹)