کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 76
اس حدیث میں دوسرے سجدے کے بعد اطمینان سے بیٹھ جانے کا ذکر ہے۔ یہ بیٹھنا ’’جلسۂ استراحت‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے بعد دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے گا۔ البتہ اس حدیث کی ایک روایت میں ہے: (( ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَسْتَوِیَ قَائِمًا )) [1] ’’پھر سیدھے اٹھ جاؤ، حتیٰ کہ اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس معروف حدیث میں تو مطلق قرآن پڑھنے کا ذکر آیا ہے، جبکہ حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں قرآن کی تعیین بھی کی گئی ہے۔ چنانچہ اُس حدیث کے الفاظ سنن ابی داود میں یوں ہیں: (( ثُمَّ اقْرَأْ بِاُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَائَ اللّٰہُ )) [2] ’’پھر تم سورۃ الفاتحہ پڑھو اور پھر جو اللہ کو منظور ہو، اس کی قراء ت کرو۔‘‘ جبکہ صحیح ابن حبان اور مسند احمد کے الفاظ ہیں: ’’پھر تم سورۃ الفاتحہ پڑھو اور پھر جہاں سے چاہو قرآن پڑھو۔‘‘[3] یہ تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یا قولی حدیث ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کو پہلی رکعت پڑھنے کی ترکیب و طریقہ بتا کر فرمایا کہ باقی پوری نماز بھی تم ایسے ہی پڑھو۔ وہ صحابی نماز کے تفصیلی مسائل سے واقف تھے، لہٰذا ان کے حسبِ حال مختصر انداز اختیار فرمایا اور چونکہ انھوں نے جلدی جلدی نماز پڑھی تھی، لہٰذا اُنھیں تمام ارکانِ نماز کو بالخصوص سکون کے ساتھ ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔ اسی حدیث کی رو سے جمہور اہلِ علم نے تمام ارکانِ نماز کی ادائیگی میں اطمینان و سکون کو واجب قرار دیا ہے، [1] صحیح أبي داود، رقم الحدیث (۷۶۳) [2] صحیح أبي داود، رقم الحدیث (۷۶۵) [3] الإحسان (۵/ ۸۸، ۸۹) الفتح الرباني (۳/ ۱۵۶) فتح الباري (۲/ ۲۷۸)