کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 75
نماز کی مسنون کیفیت اور اس کی ترکیب و ترتیب تکبیرِ تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک نماز کو مسنون انداز سے ادا کرنے کے تفصیلی مسائل سے قبل آئیے نماز کی ترکیب و ترتیب اور مسنون طریقہ کے بارے میں ایک دو ایسی احادیث کا مطالعہ کریں جن پر کافی حد تک طریقۂ نماز کا دارومدار ہے۔ نماز کو اچھے طریقے سے نہیں بلکہ جلدی جلدی ادا کرنے والے اعرابی کو نماز کا صحیح طریقہ سکھلاتے ہوئے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’جب تم نماز پڑھنے لگو تو خوب اچھی طرح وضو کر لو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیرِ تحریمہ کہو، پھر قرآنِ کریم سے جو میسر ہو وہ پڑھو، پھر رکوع کرو، حتیٰ کہ تم اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ تم اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ تم اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدے سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ تم اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور پھر دوسرا سجدہ کرو، یہاں تک کہ تم اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھاؤ، حتیٰ کہ تم اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور پھر پوری نماز یوں ہی پڑھو۔‘‘[1] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۲۵۱) صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۱۰۶، ۱۰۷) صحیح أبي داود، رقم الحدیث (۷۶۲) صحیح ترمذي، رقم الحدیث (۲۴۸) صحیح نسائي، رقم الحدیث (۸۵۱) صحیح ابن ماجہ، رقم الحدیث (۸۶۹)