کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 71
یہ تو قرآن و سنت کی تصریحات ہیں، لیکن تکلّفات کے عمل دخل نے دین کو خاصا مشکل بنا کر رکھ دیا ہے اور خاص طور پر معاشرے کے اکثریتی طبقے یعنی اَن پڑھ حضرات کے لیے تو کئی مسائل پیدا کر دیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر نیت کا مسئلہ ہی لے لیں کہ شریعت میں اسے کھلا چھوڑا گیا ہے کہ کوئی عربی ہو یا عجمی ، اپنے دل میں نیت کرے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کر دے۔ اسے عربی و فارسی، اردو اور پنجابی یا دنیا کی کسی بھی زبان میں کچھ مخصوص الفاظ پر مشتمل نیت کی مہارنی یا گردان پڑھنے کاپابند نہیں کیا گیا۔ اب جن حضرات نے اس گردان کو لازمی قرار دیا ہے، انھوں نے اس کے الفاظ بھی وضع کیے ہیں، جو یقینا ہر نماز کے ساتھ یعنی پہلے نمازِ پنج گانہ میں سے ہر نماز کے ساتھ اور پھر ہر نماز کی فرض، سنت، وتر اور نفلی رکعتوں کے ساتھ اور پھر مقتدی یا امام کی حیثیتوں کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ نماز بھی کوئی صرف پنج گانہ ہی نہیں، بلکہ کتنی ہی دوسری نفلی نمازیں بھی ہیں، جن کے لیے الگ الگ الفاظ ہوں گے۔ اس طرح یہ ایک طویل سلسلہ بن جاتا ہے اور کئی مرتبہ نمازِ جنازہ، صلاۃ الکسوف یا کسی دوسری فرض کفایہ، نفلی یا مسنون نماز کا ذکر ہو تو بعض لوگ پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ اس کی نیت کیسے کرنی ہے؟ اس معصوم سے سوال کی نوعیت ہی بتا رہی ہے کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہوں گے جنھیں کسی نفلی نماز کے بارے میں تو علم ہو گا یا کچھ نہ کچھ معلومات ہوں گی، مگر نیت کا مروّجہ طریقہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس نماز کی فضیلت کے حصول سے محروم رہ جاتے ہوں گے یا اس سے سستی برتتے ہوں گے۔ یہ تو نفلی عبادات ہیں، کوئی کر پائے تو فبہا اور نہ کر پائے تو کوئی مؤاخذہ و گناہ نہیں، ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ بعض عمر رسیدہ، بوڑھے حضرات سے پوچھا گیا کہ بابا جی آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو ان کا جواب اہلِ علم کے لیے فکر انگیز بلکہ