کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 69
احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں: نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا اسوۂ حسنہ بھی یہی بتاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی اسی کا پتا دیتے ہیں کہ زبان سے نیت کی گردان پڑھنے کا کوئی جواز نہیں، کیوں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ٹھیک طرح نماز نہ پڑھنے والے صحابی کے واقعہ پر مشتمل حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونا چاہو تو اچھی طرح وضو کر لو اور پھر قبلہ رو ہو کر تکبیرِ تحریمہ کہو۔‘‘[1] اس حدیث شریف کے معنی ٰ و مفہوم پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو سب سے پہلے تکبیرِ تحریمہ ہی زبان سے نکالنی چاہیے اور دل کا فعل دل ہی بجا لائے گا۔ ایسے ہی ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کا آغاز تکبیرِ تحریمہ سے کیا کرتے تھے۔‘‘[2] ایک تیسری حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّہُوْرُ، وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ، وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ )) [3] ’’نماز کی چابی طہارت و وضو ہے۔ تکبیر کہنے سے نماز کا آغاز اور سلام پھیرنے سے نماز کا اختتام ہو جاتا ہے۔‘‘ اس حدیث میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ طہارت کے بعد نمازی کی نماز کا آغاز [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۲۵۱) صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۱۰۷) صحیح أبي داوٗد، رقم الحدیث (۷۶۲) صحیح الترمذي، رقم الحدیث (۲۴۸) صحیح نسائي، رقم الحدیث (۸۵۱) صحیح ابن ماجہ، رقم الحدیث (۸۶۹) [2] صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۲۱۳) صحیح أبي داود (۱/ ۱۴۸) [3] صحیح أبي داود، رقم الحدیث (۵۵) صحیح الترمذی، رقم الحدیث (۳) صحیح ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۲۲)