کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 65
کہنا ضروری نہیں ہے۔ پھر آگے مسئلہ نمبر12 میں نیت کا مختصر لیکن بلاسند انداز بتایا ہے اور اسے بھی اختیار پر چھوڑ دیا ہے کہ یہ سب کہنا بھی ضروری نہیں ہے، چاہے کہے، چاہے نہ کہے، جبکہ اس اختیار کی کوئی دلیل نہیں ہے، جیسا کہ تفصیل ذکر کی جا چکی ہے۔ بہشتی زیور کے حاشیے میں مروّجہ نیت کے بارے میں واضح طور پر لکھا ہے: ’’لوگ نماز میں لمبی چوڑی نیت کرتے ہیں، یہاں تک کہ امام قراء ت پڑھنے لگتا ہے اور ان کی نیت ختم نہیں ہوتی، ایسا کرنا برا ہے۔‘‘[1] شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ : تمام مکاتبِ فکر کے مشترکہ و معروف بزرگ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں مروّجہ نیت کا کوئی تذکرہ نہیں کیا، جس سے یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ بھی صرف دل کے ارادے ہی کو نیت سمجھتے تھے۔ اس کے لیے ان کی کتاب ’’غنیۃ الطالبین‘‘ کا اردو ترجمہ حصہ اول طبع نفیس اکیڈمی کراچی کا صفحہ (۲۱) دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک وضاحت: یہاں اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ بعض متاخرین فقہا نے جب دیکھا کہ زبان سے نیت کرنے کی تائید میں نہ قرآن و سنت سے کوئی دلیل موجود ہے اور نہ ہی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا تعامل ہے، بلکہ ائمہ دین میں سے کسی کا فتویٰ بھی ان کے پاس نہیں تھا تو انھوں نے اسے ’’بدعتِ حسنہ‘‘ کہہ کر اس کے جواز کا فتویٰ دے دیا۔ جبکہ محققین علمائے کرام کے نزدیک بدعت کی یہ تقسیم ہی صحیح نہیں کہ کسی کو حسنہ اور کسی سیۂ [1] بہشتی زیور (۲/ ۱۳، ۱۴)