کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 59
نیت اور اس کا حکم یہ بات تو معروف ہے کہ تمام نیک اعمال میں ’’نیت‘‘ کو گہرا عمل دخل حاصل ہے۔ یہاں تک کہ حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ )) [1]’’عملوں کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔‘‘ نیت واجب، بلکہ شرط ہے اور اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ نماز شروع کرنے سے قبل ہی اور نماز کے لیے آتے وقت دل میں یہ قصد و ارادہ یا نیت کر لینی چاہیے کہ میں فلاں نماز، فلاں وقت اور اتنی رکعتیں پڑھنے لگا ہوں اور اس سے میرا مقصود ارشادِ الٰہی کی تعمیل اور رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ نیت چونکہ دل سے تعلق رکھنے والا فعل ہے، اس لیے اس کے الفاظ کا زبان سے ادا کرنا صحیح نہیں، کیوں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن سے نماز اور دیگر احکامِ دین کی کلیات ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے جزوی مسائل بھی ثابت ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کی نیت کے الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کی نیت زبان سے کرتے ہوتے یا اپنی امت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ضروری خیال فرماتے تو اس کی ضرور ہی تعلیم فرما دیتے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی صحیح و حسن تو کیا ضعیف حدیث بھی ثابت نہیں ہے، جس میں نیت کے [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱) صحیح مسلم (۷/ ۱۳/ ۵۳) صحیح أبي داود، رقم الحدیث (۱۹۲۷) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۳۴۴) صحیح النسائي، رقم الحدیث (۷۳) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۲۲۷)