کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 56
امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ شیخ البانی نے ان کی موافقت کی ہے اور لکھا ہے کہ اس حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو تاریخِ دمشق ابن عساکر میں دس صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [1] اِدھر اُدھر جھانکنے پر وعید: نماز میں بلا وجہ اِدھر اُدھر جھانکنے پر بڑی سخت وعید آئی ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم اور مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لوگ نماز کے دوران میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آجائیں، ورنہ ان کی نظریں اُچک لی جائیں گی (وہ اندھے کر دیے جائیں گے)۔‘‘ [2] آنکھیں بند یا کھلی رکھنا: نماز کے دوران میں آنکھوں کو کھلا رکھنا یا بند کرنا بھی ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ اور بعض دیگر اہلِ علم نے کہا ہے کہ نماز کے دوران میں آنکھوں کو بند رکھنا مکروہ ہے۔ ان کا استدلال اس روایت سے ہے، جسے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں کئی قرائن کے ساتھ غیر صحیح ثابت کر دیا ہے اور ’’فقہ السنۃ‘‘ میں سید سابق نے بھی لکھا ہے کہ نماز میں آنکھیں بند رکھنے کی کراہت کے بارے میں وارد حدیث صحیح نہیں ہے۔[3] البتہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ یہ نہیں [1] صفۃ صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم (ص: ۴۴) [2] صحیح مسلم عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ (۲/ ۴/ ۱۵۲) صحیح نسائي، رقم الحدیث (۱۱۴۱) وابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۰۴۴) عن أنس رضی اللہ عنہ ۔ [3] فقہ السنۃ (۱/ ۲۶۹)