کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 55
’’صفیں درست کر لو اور کندھوں کو ایک دوسرے کے برابر کر لو، خالی جگہیں پُر کر لو اور شیطان کے لیے (اپنے قدموں کے درمیان) خالی جگہ مت چھوڑو۔ جو صف کو ملائے، اسے اللہ ملائے اور جو صف کو توڑے، اسے اللہ توڑے۔‘‘ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہماری طرف) متوجہ ہوئے اور تین بار یہ فرمایا: ’’تم اپنی صفوں کو سیدھا کر لو، اللہ کی قسم! تم اپنی صفوں کو درست کر لو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمھارے دلوں کے درمیان مخالفت پیدا کر دے گا۔‘‘ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں نے دیکھا کہ ہم میں سے ہر نمازی اپنے برابر والے نمازی کے کندھے کے ساتھ کندھا اور ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ چمٹائے رکھتا تھا۔‘‘ [1] نمازی کی نظر کہاں ہو؟ بعض لوگ جو نماز کے دوران میں دائیں بائیں اور آگے دُور تک جھانک لیتے ہیں، اُن کا یہ فعل درست نہیں، بلکہ خشوع و خضوع کے منافی ہے۔ نظریں پاؤں سے لے کر جائے سجدہ کے اندر اندر ہی رہنی چاہییں، اس سے آگے نہیں۔ اس سلسلے میں ایک روایت بھی ہے، جسے شیخ البانی نے ’’صفۃ صلاۃ االنبی ﷺ‘‘ میں بیہقی و مستدرک حاکم سے نقل کیا ہے: ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے سرِ اقدس کو جھکائے ہوئے اپنی نظر (آسمان کی طرف نہیں بلکہ) زمین کی طرف رکھتے تھے۔‘‘ [2] [1] صحیح البخاري (۲/ ۲۱۱) صحیح أبي داود (۶۱۶) مسند أحمد (۴/ ۲۷۶) ابن حبان، رقم الحدیث (۳۹۶، الموارد) [2] صفۃ صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم (ص: ۴۴)