کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 50
سے گزر جاتے ہیں، حالانکہ یہ فعل ناجائز اور گناہ ہے۔ علامہ ابن حجر ہیتمی نے تو سُترہ کی موجودگی میں کسی کے آگے سے گزرنے کو گناہِ کبیرہ لکھا ہے اور سترہ نہ ہونے کی شکل میں نمازی کے آگے سے گزرنا اُن کے نزدیک مکروہ ہے، جس کی تفصیل ’’الزواجر عن اقتراف الکبائر‘‘ (۱/ ۱۴۲) میں مذکور چوراسی نمبر گناہِ کبیرہ کے تحت دیکھی جا سکتی ہے۔ نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت پر جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے، ان میں سے ایک حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ اس کا کتنا گناہ ہے، تو اس کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت چالیس تک کھڑے رہنا گوارا ہوتا۔‘‘ اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس کے ایک راوی ابوالنصر کہتے ہیں: ’’مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس دن کہا، یا چالیس ماہ، یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال فرمایا۔‘‘ [1] آگے سے گزرنے والے کو روکنا: نمازی کے لیے جائز بلکہ ضروری ہے کہ اگر کوئی اس کے آگے سے گزرنے لگے تو وہ نماز ہی کی حالت میں اسے اچھے طریقے سے روک دے۔ اگر وہ اچھے طریقے سے رکنے والا نہ ہو اور نہ رکے تو پھر اسے سختی کے ساتھ منع کرے، جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۱۰) صحیح مسلم (۲/ ۴/ ۲۲۴، ۲۲۵) صحیح أبي داود (۶۴۹) صحیح ترمذی، رقم الحدیث (۲۷۶) صحیح نسائي، رقم الحدیث (۷۲۹) ابن ماجہ، رقم الحدیث (۶۴۵)