کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 45
قیام جب نمازی کسی نماز کے لیے قبلہ رُو ہو جائے تو حالتِ قیام میں تکبیرِ تحریمہ یا تکبیرِ اولیٰ، دعائے استفتاح یا ثناء، تعوّذ و تسمیہ یعنی ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ‘‘ اور ’’بِسْمِ اللّٰہِ‘‘ پڑھی جاتی ہے اور پھر سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ان مسائل کی تفصیل میں جانے سے قبل نماز کے لیے قیام کی حیثیت و اہمیت واضح کر دی جائے۔ چنانچہ ’’الفقہ علی المذاہب الأربعۃ‘‘ کے مطابق اس بات پر پوری اُمت کا اجماع ہے کہ جو شخص کھڑا ہو سکتا ہو، اس کے لیے فرض نمازوں میں قیام یعنی کھڑے ہو کر نماز پڑھنا فرض ہے اور فقہائے احناف کے نزدیک تو نذر مانی ہوئی نماز، نمازِ وتر اور فجر کی سنتوں میں بھی کھڑے ہونا فرض ہے۔[1] قیام یا کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کی تاکید تو خود اللہ تعالیٰ نے بھی فرمائی ہے، ارشادِ الٰہی ہے: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلّٰـهِ قَانِتِينَ﴾ [البقرۃ: ۲۳۸] ’’تمام نمازوں کی خوب حفاظت کرو، خصوصاً درمیانی نماز (عصر) کی، اور اللہ کے سامنے اس طرح کھڑے ہو کہ جس طرح فرماں بردار (غلام) کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حکمِ الٰہی کی تعمیل میں نہ صرف فرض نمازوں میں بلکہ عموماً نفلی نمازوں میں بھی کھڑے ہوا کرتے تھے۔ [1] الفقہ علی المذاہب الأربعۃ (۱/ ۲۲۷)