کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 448
باوجود عدمِ نقل دلیل ہے عدمِ وقوع اور ترک کی۔ الغرض اجتماعی دعا پر دوام اور اس کا التزام سنّت سے ثابت نہیں، بلکہ اقرب الیٰ السنہ انداز یہ ہے کہ کبھی ہاتھ اٹھا کر، کبھی بغیر ہاتھ اٹھائے، کبھی اجتماعی شکل میں اور کبھی انفرادی طور پر دعا کی جائے اور بالالتزام دعا نہ کرنے پر تشویش کا شکار نہ ہوں۔ جو شخص من حیث الامام کبھی کبھی ایسا کرتا ہے تو اس پر نکیر بھی نہیںکرنی چاہیے اور یہی ہے: ’’خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا‘‘ [1] === [1] سنن الترمذي شرح تحفۃ الأحوذي (۲/ ۱۹۶، ۲۰۲، طبع مدینہ منورہ) و فتویٰ علامہ رحمانی ماہنامہ ’’محدّث‘‘ بنارس (شمارہ جون ۱۹۸۲ء)