کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 445
البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے بعض کے بارے میں ایسی روایات ملتی ہیں، جنھیں مروّجہ تسبیح کی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ لیکن تسبیح کے استعمال کے جواز پر دلالت کرنے والی ان روایات پر بعض محدّثین نے کلام کیا ہے اور بعض نقادانِ فنِ حدیث نے انھیں ضعیف اور ایک روایت کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ ان نقادوں اور محدّثینِ کرام میں سے امام دارقطنی، ابن عساکر، خطیب بغدادی، امام ذہبی، امام ترمذی، ابن معین، ابن عدی اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ کے اسمائے گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ ’’تسبیح‘‘ کا استعمال ثابت نہیں۔[1] 9- ابو داود و نسائی، ابن حبان و مسند احمد میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو شخص نمازِ مغرب کا سلام پھیر کر کسی سے بات کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ دعا کرے: (( اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ )) ’’اے اللہ! مجھے نارِ جہنم سے بچا لے۔‘‘ اور اتفاق سے اسی رات اس کی وفات ہو جائے تو وہ (جہنم کی) آگ سے خلاصی پا جائے گا۔ پھر صبح کی نمازِ فجر کے بعد بھی اسی طرح کہے اور اس دن اس کی موت واقع ہو جائے تو بھی آگ سے نجات پا جائے گا۔[2] 10- بخاری شریف کے سوا صحاح و سنن کی پانچوں کتبِ حدیث اور مسند احمد و صحیح ابن خزیمہ میں ایک چھوٹی سی دعا ہے جو انسان کو بہت سارے اذکار و وظائف سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ وہ کاروباری یا مصروف لوگ جو زیادہ دیر بیٹھ کر وظائف میں مشغول نہیں رہ سکتے انھیں تین مرتبہ یہ دعا ضرور پڑھ لینی چاہیے، کیوں کہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر کے بعد میرے گھر [1] انظر نیل الأوطار (۱/ ۲/ ۳۱۶) الضعیفۃ (۱/ ۱۱۲) تحفۃ الأحوذي (۹/ ۴۵۸) [2] السلسلۃ الضعیفۃ (۱/ ۱۱۷)