کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 442
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ ’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔‘‘ تسبیح: 8- فرض نمازوں کے بعد والے اذکار و وظائف میں سے تسبیح کے کئی طریقے ہیں: پہلا معروف طریقہ: ۳۳مرتبہ (( سُبْحَانَ اللّٰہِ ))، ۳۳ مرتبہ (( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ )) اور ۳۴ مرتبہ (( اَللّٰہُ اَکْبَر )) والا ہے، جو ترمذی شریف میں ہے۔ لیکن ہمارے یہاں کے مروّج طریقے میں ایک کمی پائی جاتی ہے اور وہ ہے دس مرتبہ (( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ )) کا نہ پڑھنا، کیوںکہ ترمذی شریف میں اس کا بھی ذکر ہے۔[1] دوسرا طریقہ: ان تینوں کلمات کو تو ۳۳، ۳۳ مرتبہ ہی کہا جائے جس کا مجموعہ ننانوے (۹۹) ہو جائے گا اور سو پورا کرنے کے لیے یہ کہے: [1] الفتح الرباني (۴/ ۵۴۔ ۵۵)