کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 438
(( کُنْتُ اَعْرِفُ اِنْقِضَائَ صَلوٰۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِالتَّکْبِیْرِ )) [1] ’’میں اللہ اکبر کی آواز سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مکمل ہونے کا پتا لگاتا تھا۔‘‘ 2 ،3 اللّٰه اکبر کے بعد تین مرتبہ (( اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ )) کہنا اور پھر (( اَللّٰہُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ )) کہنا سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم، بلکہ بخاری شریف کے سوا صحاح ستہ و سننِ اربعہ کی تمام کتب اور دارمی و ابن خزیمہ میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو تین مرتبہ (( اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ )) کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: (( اَللّٰہُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ )) [2] ’’اے اللہ! تو ہمہ سلامتی ہے اور تجھ ہی سے سلامتی ملتی ہے۔ تو ذاتِ بابرکات اور صاحب جلال و اکرام ہے۔‘‘ کتبِ حدیث میں تو یہ دعا صرف اتنی ہی ہے ۔اور اس میں جو: ’’وَاِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلَامُ، فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلاَمِ وَاَدْخِلْنَا دَارَالسَّلَامِ‘‘ ’’اور تیری ہی طرف سلام لوٹ جاتا ہے، ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ اور ہمیں دار السلام میں داخل کر۔‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے، ان کی کوئی اصل نہیں۔ بلکہ تصحیح المصابیح میں شیخ جزری رحمہ اللہ نے صراحت کی ہے کہ یہ الفاظ من گھڑت ہیں۔[3] البتہ رؤیتِ کعبہ کی دعا میں صرف (( فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلاَمِ )) کے الفاظ [1] الفتح الرباني (۴/ ۳۱) أبي داود (۱/ ۳۸۵) مشکاۃ (۱/ ۷۔ ۳۰۶)