کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 437
ضرور پڑھنے کے بعد ہی سنن و نوافل کا آغاز کرنا چاہیے۔ ابو داود میں تو یہاں تک مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز کی جماعت کرائی اور نمازیوں کی پہلی صف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ ایک نمازی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کے فوراً بعد اٹھ کر نمازِ نفل پڑھنا چاہی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف جھپٹے اور اس کے کندھوں کو پکڑ کر ہلایا اور پھر فرمایا: بیٹھ جائو، اہلِ کتاب کی ہلاکت کا سبب یہی تھا کہ ان کی (فرض و نفل) نمازوں کے مابین وقفہ و فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔ یہ سن کر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہِ مبارک اٹھائی اور حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے تجزیے کو بنظرِ استحسان دیکھتے ہوئے فرمایا: (( اَصَابَ اللّٰہُ بِکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ )) [1] ’’اے خطاب کے بیٹے عمر! اللہ تجھے خطا سے بچاتا رہے۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرضوں کے فوراً بعد سنتیں یا نفل پڑھنا شروع کر دینا کس قدر نامناسب بلکہ مہلک ہے۔ دعائیں اور اذکار: فرض نمازوں کے بعد والے اذکار و وظائف تو بے شمار ہیں، جن میں سے چند صحیح اسناد سے مروی اذکار و وظائف ہم آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ 1۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے جس وظیفہ یا دعا کا ذکر آتا ہے وہ ہے تکبیر، یعنی اللہ اکبر کہنا۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم اور ابو داود و نسائی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: [1] مشکاۃ المصابیح (۱/ ۳۰۵) [2] سنن الترمذي (۹/ ۴۵۰) وفي التحفۃ لہ شاہد، رواہ أحمد۔