کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 429
کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم اس کی سند کے ایک راوی عَمرو بن خلیفہ بکراوی پر کچھ کلام کیا گیا ہے۔[1] دوسرا طریقہ: اب رہا مجاہدین کے دو حصے کر کے ایک حصے کو دو رکعتیں اور دوسرے کو ایک رکعت پڑھانے کا معاملہ، تو اس سلسلے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بقول کوئی صحیح حدیث نہیں ملتی۔ امام شوکانی نے بھی اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول یا فعل کے وجود کی نفی کی ہے، البتہ بیہقی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعض آثار سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے خوف کی حالت میں نمازِ مغرب پڑھائی تھی اور انہی کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے پہلے گروہ کو ایک رکعت اور دوسرے کو دو رکعتیں پڑھائی تھیں، جبکہ ’’البحر الرائق‘‘ میں اس کے برعکس مذکور ہے کہ انھوں نے پہلے گروہ کو دو اور دوسرے کو ایک رکعت پڑھائی تھی۔[2] الغرض احناف اور مالکیہ نے اسے ہی اختیار کیا ہے کہ پہلے گروہ کو دو رکعتیں اور دوسرے کو ایک پڑھائے، جبکہ امام شافعی و احمدH نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی راجح تر روایت کے مطابق اس بات کو بھی جائز قرار دیا ہے کہ پہلے کو ایک رکعت اور دوسرے کو دو رکعتیں پڑھائے۔ ان ہر دو طریقوں کے مطابق جس گروہ کی جتنی نماز امام کے بغیر ہوگی، اس کی ادائیگی کی شکل حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی صلاۃ الخوف کے پہلے طریقے میں گزر چکی ہے۔[3] [1] فتح الباري (۲/ ۴۳۴) [2] سنن الدارقطني مع التعلیق المغني (۱/ ۲/ ۶۱)