کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 424
کے ساتھ نماز شروع کر لے اور فوج کے دونوں حصے ہی ایک ایک رکعت کی قضا کریں۔ یہ طریقہ صحیح بخاری و مسلم، سننِ اربعہ، موطا امام مالک، مسند احمد اور بیہقی میں مذکور ہے کہ غزوۂ اہل نجد کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھائی۔[1] تیسرا طریقہ: صلاۃ الخوف ادا کرنے کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ امام نمازیوں کے دو حصے کر کے ان میں سے ہر حصے کودو دو رکعتیں پڑھائے۔ جب پہلا حصہ دو رکعتیں پڑھ کر امام کے ساتھ سلام پھیر لے اور دشمن کے مقابلے میں جا کر کھڑ ہوا تو دوسرا حصہ آجائے اور وہ بھی پہلے حصے کی طرح ہی امام کے ساتھ دو رکعتیں پڑھے اور اس کے ساتھ ہی سلام پھیرے۔ اس طرح امام کی چار رکعتیں ہو جائیں گی، پہلی دو فرض اور دوسری دو نفل۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح نمازِ خوف پڑھانا صحیح بخاری و مسلم، ابو داود، نسائی، مسند احمد، شافعی، صحیح ابن خزیمہ، ابن حبان، مستدرک حاکم اور دارمی میں مذکور ہے۔[2] چوتھا طریقہ: دشمن قبلے کی جانب ہو تو اس موقع پر صلاۃ الخوف ادا کرنے کا چوتھا طریقہ یہ ہے کہ مقتدیوں کے دو گروہ بن جائیں اور دونوں ہی امام کی اقتدا میں نماز شروع کر لیں۔ قیام و رکوع وغیرہ تمام ارکان میں وہ دونوں گروہ ہی امام کے ساتھ ساتھ رہیں اور دشمن کی طرف سے بے خبر بھی نہ ہوں، لیکن جب امام سجدہ ریز ہو تو اس وقت آگے والے گروہ (مثلاً چھے صفیں ہونے کی شکل میں آگے والی تین صفوں) کے نمازی [1] مختصر صحیح بخاری مترجم انگریزی (ص: ۷۷۲ دارالسلام) صحیح مسلم و شرح النووي (۳/ ۶/ ۱۲۸) سنن أبي داوٗد (۴/ ۱۰۸۔ ۱۰۹) سنن الترمذي (۳/ ۵۵۔ ۱۵۳) نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۳۱۶) مشکاۃ (۳/ ۳۲۱)