کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 420
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دو باتوں میں اختیار دیا: اول: یہ کہ ہر نماز کے لیے وضو کر کے ادا کرتی جاؤ اور غسل صرف انقطاعِ حیض پر ایک مرتبہ ہی کر لو، کافی ہے۔ دوم: یہ کہ ظہر کو مؤخّر اور عصر کو مقدّم کر کے ان کے مابین غسل کرو اور یہ دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھ لو، پھر مغرب کو مؤخّر اور عشا کو مقدّم کر لو، پھر غسل کر کے ان دونوں کو جمع سے ادا کر لو اور فجر کے لیے غسل کر کے وہ پڑھ لو۔ اسی حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اَیُّہُمَا صَنَعْتِ اَجْزَأَ عَنْکِ )) [1] ’’ان دونوں میں سے جسے بھی اپنا لو تم سے کفایت کر جائے گا۔‘‘ ربِّ کائنات نے سچ ہی فرمایا ہے: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ﴾ [الحج: ۷۸] ’’(اللہ) نے دین میں تم پر کوئی سختی نہیں کی۔‘‘ [1] جواز الجمع بین الصلاتین للمطر (۲/ ۲۳۔ ۲۴) رجح الحافظ الجمع الصوري وردّ علیہ ابن باز۔ دیکھیں: ہفت روزہ ’’اہلحدیث‘‘ لاہور (جلد ۱۶، شمارہ ۴۳، ۱۰ صفر ۱۴۰۶ھ، بمطابق ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء) [2] فقہ السنۃ (۱/ ۲۹۱) جواز الجمع للمریض، البخاري معلقا وعبدالرزاق موصولا۔ البخاري مع فتح الباري (۲/ ۴۰۔ ۴۱)