کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 42
میں رعایت ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر پڑھی جانے والی نماز کو ’’صلوٰۃ الخوف‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں بھی آیا ہے اور حدیثِ شریف میں بھی۔ سواری پر: استقبالِ قبلہ کے وجوب کے ساقط ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اونٹ یا گھوڑے وغیرہ پر سوار ہو اور سواری کے دوران ہی نفلی نماز پڑھنا چاہے تو اس کے لیے اشارے سے ایسا کرنا جائز ہے، لیکن یہ نفلی نماز کے لیے ہے۔ کسی انتہائی مجبوری کے سوا یہ فرض نماز کے لیے روا نہیں ہے۔ نفلی نماز کے لیے وہ شروع میں تکبیرِ تحریمہ کے وقت ایک مرتبہ قبلہ رُو ہو جائے، پھر سواری چاہے کسی بھی طرف جاتی رہے کوئی حرج نہیں، کیوں کہ تب اس سے استقبالِ قبلہ ساقط ہوجاتا ہے، جس کا پتا متعدد احادیث سے چلتاہے، جن میں سے ایک میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے آغاز میں) قبلہ رو ہو جاتے اور تکبیرِ اولیٰ کہتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو چھوڑ دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے جاتے اور سواری چاہے جس طرف بھی مڑتی جاتی۔‘‘ [1] ایسے ہی صحیح بخاری و مسلم اور مسند احمد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) اپنی سواری پر بیٹھے بیٹھے ہی نماز پڑھ لیتے تھے، وہ چاہے جس طرف بھی مڑتی جاتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر کر قبلہ رُو ہو جاتے۔‘‘ [2] [1] صحیح أبي داود، رقم الحدیث (۱۰۸۴) المنتقیٰ مع النیل (۱/ ۲/ ۱۷۲) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۰۹۹) مختصر بخاري للألباني (۱/ ۱۱۴)