کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 419
جواز کا پتا چلتا ہے۔[1] کسی دوسرے سخت مشقّت و مجبوری کے موقع کا بھی یہی حکم ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اسے عادت نہ بنا لیا جائے۔ مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ میں بعض تفصیلات میں اختلافِ رائے سے قطع نظر مجموعی طور پر جمع کے جواز پر اتفاق ہے۔ علمائے حدیث کی ایک جماعت بھی اس کی قائل ہے، البتہ احناف بارش میں جمع کے قائل نہیں۔ بارش میں جمع بَین الصلاتین کے بارے میں ہمارا ایک تفصیلی مضمون متعدد جماعتی پرچوں میں عرصہ ہوا چھپ چکا ہے۔ بیماری میں جمع: بیماری کی حالت میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا ذکر تو حدیث میں نہیں ملتا، لیکن امام احمد، امام مالک اور کئی دیگر کبار علماو فقہا کے نزدیک بیماری میں بھی دو نمازوں کو جمع کر لینا جائز ہے، کیوں کہ بیمار کو ہر نماز اپنے وقت پر ادا کرنے میں جو مشقّت اور دقّت پیش آتی ہے وہ بارش سے بھی زیادہ ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے اس دلیل کو قوی قرار دیا ہے۔[2] اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے استحاضہ کے مرض والی عورت کو ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو جمع کر کے ادا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ استحاضہ ایک نسوانی بیماری ہے جس میں عورت کو ہر مہینے کے حسبِ معمول ایامِ حیض کے علاوہ باقی دنوں میں بھی خون آتا رہتا ہے۔ چنانچہ ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد، مستدرک حاکم، دارقطنی، بیہقی اور مشکل الآثار طحاوی میں حضرت [1] صحیح مسلم (۳/ ۵/ ۲۱۵) الفتح الرباني (۵/ ۱۳۱) نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۲۱۵) [2] موطا مع التنویر (۱/ ۱۶۲) إرواء الغلیل (۳/ ۴۱) [3] صحیح مسلم (۳/ ۵/ ۱۸)