کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 418
’’میرا خیال ہے کہ یہ بارش کی وجہ سے تھا۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف یا بارش کے بغیر ایسا کیوں کیا ؟ تو انھوں نے فرمایا: (( اَرَادَ اَنْ لَّا یُحْرِجَ اَحَدًا مِنْ اُمَّتِہٖ )) [1] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اس لیے کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا کوئی شخص مشقّت میں مبتلا نہ ہو۔‘‘ ان احادیث میں جو (( مِنْ غَیْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ )) اور (( مِنْ غَیْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ )) کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خو ف و سفر کی طرح ہی بارش میں جمع کر لینا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو معلوم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بلا خوف و سفر اور بارش کے بغیر جمع کی وجہ دریافت نہ کی گئی۔ موطا امام مالک میں صحیح سند سے مروی ہے کہ امراء و حکّام جب بارش کی وجہ سے مغرب و عشا جمع کر کے پڑھتے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔[2] صحیح مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (حضر میں) ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو جمع کر کے ادا کرنے کا ذکر کیا تو حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے اس بات کی تصدیق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے چاہی تو انھوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔[3] شدید ضرورت و مجبوری میں جمع: مذکورہ سابقہ سب احادیث و آثار سے بارش وغیرہ میں جمع بَین الصلاتین کے [1] صحیح البخاري (۲/ ۲۳) نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۲۱۵) [2] نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۲۱۵) إرواء الغلیل (۳/ ۳۴) [3] حوالہ جاتِ سابقہ، الفتح الرباني (۵/ ۱۳۱) [4] موطأ الإمام مالک مع تنویر الحوالک للسیوطي (۱/ ۱۶۱)