کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 416
ان سب احادیث کے پیشِ نظر ہی کثیر صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین اور ائمہ و فقہا رحمہم اللہ کے نزدیک دورانِ سفر مطلقاً ظہر و عصر اور مغرب و عشا کے مابین جمع جائز ہے۔[1] نمازی سفر میں رواں ہو یا کہیں ٹھہر چکا ہو، سفر جلد طے کرنے کا ارادہ ہو یا عام رفتار سے جا رہا ہو اور جمع تقدیم سے پڑھے یا جمع تاخیر سے، ہر طرح جائز ہے۔[2] سفرِ حج میں جمع: عام سفروں کے علاوہ خاص سفرِ حج میں بھی قصر و جمع اِسی طرح ثابت ہے، مگر حجاج کی کثیر تعداد اس رعایت سے مستفید نہیں ہوتی۔ میدانِ عرفات و مزدلفہ میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع و قصر سے ظہر و عصر اور مغرب و عشا ادا فرمائیں، ظہر و عصر کو ظہر کے وقت اور مغرب و عشا کو عشا کے وقت پڑھا تھا اور اس کے سنّت ہونے میں تمام ائمہ و فقہا کا اتفاق ہے۔[3] کیوں کہ صحیح مسلم، نسائی اور مسند احمد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ عرفات میں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ دو نمازیں پڑھیں اور مزدلفہ آئے تو وہاں مغرب و عشا بھی ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ادا فرمائیں اور دو نمازوں کے مابین کوئی سنن و نوافل نہیں پڑھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاںتک کہ فجر طلوع ہوئی۔[4] صحیح بخاری شریف، نسائی اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشا کو جمع کر کے دو اقامتوں کے ساتھ ادا فرمایا اور ان کے مابین کوئی سنن و نوافل نہیں پڑھے اور نہ کسی کے بعد میں ہی۔[5] [1] صحیح البخاري مع الفتح (۲/ ۵۸۱) [2] فتح الباري (۲/ ۵۸۳) [3] حوالہ سابقہ۔