کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 410
اسی طرح صحیح بخاری شریف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دورانِ سفر فجر کی سنّتیں پڑھنابھی ثابت ہے۔[1] صحیح بخاری شریف ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نمازِ ضحی یا اشراق یعنی چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھنا بھی ثابت ہے۔ حضرت اُمّ ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں، جو انتہائی تخفیف سے ادا فرمائیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود پوری طرح ادا کر رہے تھے۔[2] جبکہ ابو داود، ترمذی، بیہقی اور مسند احمد کی بعض احادیث سے دورانِ سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہر سے پہلے دو رکعتیں اور بعد میں دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشا کے بعد دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔ موطا امام مالک اور مسند احمد کی بعض روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورانِ سفر تہجد ادا کرنے کا بھی ذکر ہے۔[3] ان مختلف قسم کی احادیث کے مجموعی مفاد سے شارح بخاری حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ جمع و تطبیق ذکر کی ہے کہ دورانِ سفر چار قسم کے نوافل و سنن کی اجازت ہے۔ پہلی وہ سنّتیں جو فرضوں کے بعد والی مؤکدہ سنّتیں ہیں، دوسری وہ جن کا ایک وقت مخصوص ہوتا ہے، جیسے نمازِ ضحی، تیسری صلاۃ اللیل یعنی تہجداور چوتھی مطلق نفلی نمازیں ہیں۔[4] بقول شارح مسلم امام نووی رحمہ اللہ ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی مؤکدہ سنّتوں کی نفی غالب احوال کے بارے میں ہے۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً یہ سنّتیں اپنے گھر میں ادا کرتے ہوں گے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہیں پاتے ہوں گے۔ یہ [1] متفق علیہ، مشکاۃ المصابیح (۱/ ۴۲۵) [2] صحیح البخاري (۲/ ۵۷۸) صحیح مسلم (۳/ ۵/ ۲۰۹) [3] صحیح البخاري (۲/ ۵۷۳) صحیح مسلم (۳/ ۵/ ۲۱۰)