کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 403
بلکہ یہ محض اجتہاد ہے۔[1] احناف کا مسلک بھی یہی ہے کہ جہاں آدمی پندرہ دن یا اس سے زیادہ دن ٹھہرنے کا ارادہ کر لے وہاں وہ پوری نماز پڑھے گا اور اس سے کم کا ارادہ ہو تو قصر کرے گا۔ جبکہ حضرت عثمان و انس رضی اللہ عنہما اور ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے چار روز مدتِ قصر کی روایت ملتی ہے۔ امام مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے اور انھوں نے بعض احادیث سے استدلال کیا ہے، جو بظاہر اس بات میں صریح نہیں۔[2] علامہ عبیداللہ رحمانی نے المرعاۃ میں اسی مسلک کو ترجیح دی ہے۔[3] لیکن یہ ترجیح محلِ نظر ہے، جبکہ بعض کبار علمانے لکھا ہے کہ مدتِ قصر کی کوئی حد مقرر نہیں، جب تک سفر میں رہے قصر کر سکتا ہے۔ امام شوکانی اور امیر صنعانی نے اس بات کی طرف صرف اشارہ کیا ہے، جبکہ علامہ ابن حزم نے دلائل دیے ہیں اور علامہ ابن قیم نے بظاہر اسے راجح قرار دیا ہے۔[4] مجبور کے لیے حکم: مذکورہ مدتِ قصر تو اس مسافر کے لیے ہے جس کا کسی شہر میں یا کسی جگہ پر جا کر ایک مقررہ مدت تک ٹھہرنے کا ارادہ ہو۔ اگر کسی جگہ مجبوراً رکا ہوا ہو اور ہر وقت یہ خیال ہو کہ مجبوری زائل ہوتے ہی وطن واپس ہو جائے گا تو ایسی جگہ بلا تعیّنِ مدت قصر پڑھی جا سکتی ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اس سلسلے میں متعدد آثار اور مثالیں موجود ہیں۔ چنانچہ مسند احمد، بیہقی، مصنف عبدالرزاق اور سنن اثرم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ [1] الفتح الرباني (۵/ ۱۱۱) نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۲۰۹) [2] نیل الأوطار أیضًا و إرواء الغلیل (۳/ ۲۳)