کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 402
نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری معرکۂ حق و باطل غزوۂ تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیس دن ٹھہرے رہے اور قصر پڑھتے رہے، جیسا کہ ابو داود، ابن حبان، مسند احمد اور بیہقی میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( اَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِتَبُوْکَ عِشْرِیْنَ یَوْمًا یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ )) [1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں بیس دن مقیم رہے اور قصر پڑھتے رہے۔‘‘ اس حدیث کو امام نووی رحمہ اللہ اور علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ البتہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے مرسل و منقطع قرار دیا ہے۔[2] مدتِ قصر میں مختلف اقوال: صحیح بخاری، مسند احمد اور ابن ماجہ میں واقعۂ فتح مکہ کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انیس دن قیام کرنے اور قصر کرنے کی بنا پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کامسلک یہ تھا کہ جب ہم انیس دن سفر میں رہیں گے تو قصر کریں گے اور اگر اس سے زیادہ کا خیال ہوگا تو نماز پوری پڑھیں گے۔ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے بھی یہی مسلک اختیار کیا ہے اور اسے سب سے قوی قرار دیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنا مسلک بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ بخاری و مسلم، نسائی، بیہقی اور مسند احمد میں مذکور حجۃ الوداع والے واقعہ کے پیشِ نظر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مدتِ قصر صرف دس دن منقول ہے اور حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ اور ایک روایت میں حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے پندرہ دن کی مدت بیان کی گئی ہے (جبکہ دوسری روایت میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بارہ دن کی مدتِ قصر بھی منقول ہوئی ہے)، امام اوزاعی رحمہ اللہ بھی بارہ دن کی طرف گئے ہیں، مگر اس کی کوئی دلیل نہیں، [1] صحیح البخاري مع الفتح (۸/ ۲۱) [2] فتح الباري (۲/ ۶۲۔ ۵۶۱) الفتح الرباني (۵/ ۱۱۱) نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۲۱۰) [3] نیل الأوطار أیضاً۔