کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 398
آغازِ قصر: نمازِ قصر پڑھنے کا آغاز کہاں سے کیا جائے گا؟ اس سلسلے میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعیین ثابت نہیں۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمولِ مبارک یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستی یا آبادی سے نکل جاتے تو قصر شروع فرما دیتے تھے۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، مسند احمد، ابن ابی شیبہ اور بیہقی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو۔‘‘[1] امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سفر پر نکلنے سے پہلے ہی نمازِ قصر کی ہو۔ پھر اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ مسافر جب اپنی بستی کے مکانوں سے باہر نکل جائے تو قصر شروع کرے۔ یہی جمہور علمائے امت کا مسلک ہے۔‘‘[2] بعض جزوی امور سے قطع نظر ائمہ اربعہ کا بھی اس پر اتفاق ہے۔[3] مدتِ قصر: اب رہی یہ بات کہ ایک شخص سفر پر نکلے اور اسے چند دن راستہ طے کرتے لگ جائیں اور پھر جہاں پہنچے وہاں اس کا کچھ مدت ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو دورانِ سفر تو وہ قصر ہی کرتا جائے گا، لیکن جب وہ کہیں جا کر ٹھہر جائے تو وہاں کب تک قصر [1] فتح الباري (۲/ ۵۶۷) نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۲۰۵) الفتح الرباني (۵/ ۱۰۳۔ ۱۰۴) [2] صلاۃ المسلمین (ص: ۲۸۷) [3] الفقہ الإسلامی و أدلتہ للزحیلی (۲/ ۳۲۱) [4] الفقہ الإسلامي (۱/ ۴۷۳)