کتاب: مختصر فقہ الصلاۃ نماز نبوی - صفحہ 390
خود اپنے امامِ مجتہد کی مخالفت بھی کر جاتے ہیں اور جب تھوڑی مشقّت پر زیادہ اجر مل رہا ہو تو پھر اپنے آپ کو زیادہ مشقّت والے کام میں ڈالنے سے کیا حاصل؟ ویسے بھی صحیح ابن حبان، ابن خزیمہ اور مسند احمد میں صحیح سند سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اَنْ تُؤْتٰی رُخَصُہٗ کَمَا یَکْرَہُ اَنْ تُؤْتٰی مَعْصِیَتُہٗ )) ’’اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دی ہوی رخصتوں کو اپنایا جائے، جیسا کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے۔‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کتاب الایمان کے شروع میں اس حدیث کے دوسرے درجِ ذیل الفاظ کا جو انکار کیا ہے، یہ ان کا تسامح ہے۔[1] (( ۔۔۔کَمَا یُحِبُّ اَنْ تُؤْتٰی عَزَائِمُہٗ )) [2] ’’۔۔۔ جیسے وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے اوامر پر عمل کیا جائے۔‘‘ قصر کی مسافت: نمازِ قصر کے لیے سفر کی وہ کم از کم مسافت و مقدار کیا ہے کہ جس میں قصر کی جائے؟ اس کی تعیین نہ تو سورۃ النساء کی آیت (۱۰۱) سے ہوتی ہے: ﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ...﴾ ’’جب تم سفر پر نکلو۔۔۔۔‘‘ کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے مطلق فرمایا ہے کہ ’’جب تم سفر پر نکلو‘‘ اور نہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صحیح حدیث سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ مسافت کی وہ کم از کم مقدار کیا ہے؟ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو چیز صحیح احادیث میں بلاشبہہ ثابت ہے، وہ صرف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر سفر ہی میں قصر نماز پڑھی ہے اور کسی سفر کے دوران میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص اس مقدار سے کم سفر کرے وہ [1] حوالہ جات گزر گئے ہیں۔ [2] نیل الأوطار (۲/ ۳/ ۱۹۹۔ ۲۰۵) فتح الباري (۲/ ۵۶۴۔ ۵۶۵، ۵۶۹۔ ۵۷۲) المحلی لابن حزم (۲/ ۴/ ۲۶۴۔ ۲۷۲) شرح مسلم نووي (۳/ ۵/ ۱۹۴۔ ۲۰۰) الفتح الرباني (۵/ ۹۷۔ ۱۰۰) [3] دیکھیں: الإرواء (۳/ ۶۔ ۹) [4] المرعاۃ (۳/ ۲۵۵) تحفۃ الأحوذي مع الترمذي (۳/ ۱۰۴)